عنقریب : اللہ تنگی کےبعد آسانی کر دے گا!

عنقریب : اللہ تنگی کےبعد آسانی کر دے گا!

الشیخ ابو ہریرہ قاسم الریمی

View Fullscreen

 

حرفِ اوّل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ألحمدللہ و کفیٰ و الصلاۃ و السلام علیٰ رسول اللہ، أمّا بعد

یوں تو شیخ ابو ہریرہ قاسم الریمی ( امیرِ جماعت قاعدۃ الجہاد فی جزیرۃ العرب) کا یہ بیان ’’ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا‘‘ ، (عنقریب اللہ تنگی کےبعد آسانی کر دے گا!) مجاہدینِ شام ، ان کے امراء وعلماء اور شامی عوام کو مخاطب ہے، لیکن اس میں خراسان و برِّصغیر کے مجاہدین و محبینِ جہاد کے استفادہ کے لیے بھی بہت مفید نصائح موجود ہیں ۔

یہ بیان اصلاً صوتی شکل میں ہے، جسے ادارہ ’الملاحم‘ نے نشر کیا ہے۔ اس کے ترجمے کا اکثر حصہ، بحمداللہ مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ کے دسمبر ۲۰۱۹ء کے شمارے میں شائع ہو چکا ہے۔ اب اس کتابچے کی صورت میں افادۂ عام کی غرض سے، اس بیان کا مکمل ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس ’عربی‘ بیان کو اردو قالب میں  ہمارے محترم بھائی ’ابو عمر عبد الرحمٰن‘ نے ڈھالا ہے۔اللہ پاک اس کاوش کو قبول فرما لیں اور اس بیان میں موجود نصائح پر مجاہدین کو سوچنے اور عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں، آمین یا ربّ العالمین۔

و صلی اللہ علیٰ النبی، و آخر دعوانا أن الحمدللہ ربّ العالمین۔

مدیر

(ادارہ نوائے افغان جہاد)

ربیع الثانی ۱۴۴۱ ھ ؍ دسمبر۲۰۱۹ء

عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی کرے دے گا!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں، جس کا فرمانِ مبارک ہے: ﴿وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾[1] اور درود و سلام ہو اشرف المخلوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر، جو فرماتے ہیں:’’إِنَّ اللَّهَ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ‘‘، ’’اللہ نے میرے لیے شام اور اس کے لوگوں میں برکت رکھی ہے‘‘۔

اسلامی شام میں موجود اپنے عزیزمسلمان بھائیوں کے نام ……السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

عزیز بھائیو! ہم آپ کی ثابت قدمی اور صدق وقربانی بھی دیکھ رہے ہیں اور دشمن پر بھی ہماری نظر ہے جو آپ کے ساتھ کسی قسم کی رعایت سے بھی کام نہیں لیتا، لیکن اس کے باوجود بھی اے بھائیو! دل برداشتہ نہ ہو ، غم نہ کھاؤ ، واللہ! تم ہی غالب ہو گے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾[2] اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ﴾[3] آپ جن احوال سے دو چار ہیں، یہ احوال یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اللہ کی مدد قریب ہے، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَنْ نَشَاءُ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ﴾[4] تو نصرتِ الٰہی کو نہ کوئی روک سکتا ہے اور نہ منع کرسکتا ہے۔ ﴿إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴾[5] جب مدینۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اتحادیوں (احزاب) نے اہل ایمان کوگھیر لیا تھا اور مارے خوف کے آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور کلیجے گویا منہ کو آگئے تھے، اُس وقت اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا؀ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا﴾[6]۔ ان سخت لمحات میں منافقین نے ایک بات کہی، اور یہ بات منافقین ہر دور میں کہتے رہے ہیں ،بلکہ جب تک حق اور باطل کے درمیان کشمکش جاری رہے گی، یہ بات منافقین کی زبانوں سے سنی جاتی رہے گی، ﴿وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا﴾[7]ایسے مواقع پر ایمان و یقین اور ہمت و قوت ِ قلبی سے خالی منافقین کا یہی کہنا ہوتا ہے، کیوں ؟ اس لیے کہ ان کا ایمان محض مادیت اور موجود محسوسات پر ہوتا ہے۔ جبکہ جہاں تک اہل ایمان کا تعلق ہے تو چونکہ وہ اللہ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں ، اس لیے انہیں اطمینان ہوتا ہے ،ان کا حال اللہ رب العزت نے کچھ یوں بیان کیا ہے؛ ﴿وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا﴾[8]۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب مصائب حد سے بڑھ جاتے ہیں اور مارے خوف کے کلیجے حلق میں آجاتے ہیں، عین اُس وقت رحیم و کریم اور لطیف و خبیر رب بندوں پراپنا فضل اور رحمتیں انڈیل دیتا ہے، ﴿اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ﴾[9]۔ بیشک اللہ کی مہربانی ہی ہے کہ اللہ نے حق اور باطل کے درمیان نہ ختم ہونے والی کشمکش رکھی ہے۔ اس کشمکش میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی عظیم حکمت ہے، ﴿وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ﴾[10]۔ اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا فرمان ہے؛ ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾[11]۔ اللہ کی قسم! خود ہم نے اپنے رب کی مہربانی اور لطف ہر مشکل اور ہر حادثہ میں دیکھا ہے۔ معذرت کے ساتھ یہاں پر آپ کے سامنے ایک واقعہ سنانا چاہوں گا جو افغانستان میں بھائیوں کے ساتھ ہمیں پیش آیا۔اللہ سے ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے آپ کی پریشانی میں کوئی کمی لاسکیں۔ ۲۰۰۱ء میں جب کابل میں طالبان حکومت کا سقوط ہوا اور ہم خوست سے زُرمت پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے ایک چھوٹے سے بازار میں ہمیں روکا اور مطلع کیا کہ ’’تم محاصرے میں ہو۔ حاجی قدیر کے بندوں نے تمہیں آگے اور پیچھے سے گھیر لیا ہے ‘‘، (حاجی قدیر وارلارڈ تھا جو امریکیوں کے لیے کام کرتا تھا)۔ ہماری حالت یہ تھی کہ ہمارے دائیں طرف بہت گہرا اور وسیع گڑھا تھا اور بائیں طرف دیکھا تو ایک بڑا پہاڑ تھا جس میں روس کے دور میں بے تحاشہ بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں۔ اس کیفیت میں جب ہم نے اپنی طرف دیکھاتو ہمارا حال یہ تھا کہ قافلے میں ہمارے ساتھ زخمی ساتھی، خواتین اور بیسیوں بچے تھے ، ان میں سے ایک خاتون کے یہاں ولادت ہونے والی تھی اور وہ تکلیف سے کراہ رہی تھی ۔ زمین اپنی وسعت کے باوجود ہمارے لیے تنگ ہو گئی تھی ، کچھ کرنے کی استطاعت ہی نہیں تھی ، یہاں تک کہ دعا مانگنا بھی مشکل تھا۔ واللہ! کئی مرتبہ ایسے حالات ہمیں پیش آئے ہیں جہاں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا بھی مشکل ہوتا اور ایسے میں جب ہم لا حول لنا ولا قوّۃ إلا بربنا سبحانہ ، پڑھتے تو اللہ کی مدد ایسی سمت سے آتی جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا تھا۔ جو اللہ رب العزت نے فرمایا ہے: ﴿وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ﴾[12] تواللہ گواہ ہے یہی ہماری حالت تھی۔ ہماری یہ حالت معنوی لحاظ سے ایسی نہیں تھی، جیسا کہ ہمارے علماء رحمہم اللہ نے اس آیت کا مفہوم بیان کیا ہے، بلکہ حقیقت میں ہم اپنے دلوں کو جیسے حلق میں محسوس کر رہے تھے۔ ہم ڈھائی سو افراد تھے ، ان میں سے بھی متعدد زخمی تھے، وہ درد سے تڑپ رہے تھے ، ان کی پٹی کرانے اور دوا دینے کے لیے ہمارے ہاتھ خالی تھے ۔ جوبچے ہمارے پاس تھے وہ سفر کی طوالت اور گرمی کی شدت کے باعث رو رہے تھے ، خواتین کا بھی تھکاوٹ سے حال برا تھا ۔ اس قافلے کے امیر افغانی بھائی ملّا بلال تھے ، یہ اب تک گوانتانامو میں قید ہیں ، اللہ انہیں رہائی عطا فرمائے، (آمین) ان کی غیر موجودگی میں مَیں نیابت کرتا تھا۔ اگر وہ ہم سے دور ہوتے تو پھر حال یہ ہوتاکہ نہ علاقے کے بارے میں مَیں کچھ جانتا تھا اور نہ ہی چند ایسےالفاظ کے علاوہ افغانیوں کی زبان کا مجھے علم تھا جن کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ قافلے میں جو دیگر بھائی تھے اُن کا بھی یہی حال تھا۔ہم اشاروں سے بات کرتے یابس محبت کی زبان بولتے۔ اللہ نے اس دوران ہمارے لیے آسانی کا ایسا معاملہ کیا جو ہمارے گمان میں بھی نہیں تھا۔ اب جب ہمیں کہا جا رہاتھا کہ حاجی قدیر کےبندے ہماری طرف آگے پیچھے سے پیش قدمی کر رہے ہیں ،ہمارے لیے لڑنا بھی ممکن نہیں تھا،لڑنے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ جس راستے پر ہم تھے اس کی چوڑائی پانچ چھ میٹر سے زیادہ نہیں تھی ، بالکل سناٹا چھا یا ہوا تھا ، کوئی کچھ بول نہیں رہا تھا ، جیسے انتظار تھا کہ کوئی بولے۔ عین اس وقت مخابروں (وائرلیس) پر ہم نے سنا کہ طالبان نے قندوز واپس لے لیاہے ۔ یہ سننا تھاکہ پہلے بچوں اور پھر بڑوں نے تکبیر کے نعرے بلند کیے ، زخمیوں نے دوسروں سے پہلے اللہ اکبر کہا ، اور جب ہم سب نے تکبیر کے نعرے بلند کیے تو بازار میں موجود عام افغانیوں نے بھی تکبیر کے نعرے بلند کیے اور پوچھ بھی لیا کہ کیا ہوا ؟ ہم نے انہیں کہا کہ قندوز مجاہدین نے واپس لے لیا۔ (اس خبر سے ان کا بھی اس قدر جذبہ بڑھا کہ) انہوں نے کہا کہ’’ تم آگے والے دشمن کو سنبھالو ، ہم پیچھے والے کو سنبھالتے ہیں ( یعنی ان کا مقابلہ کرتے ہیں) بسم اللہ کرو ، آگے بڑھو! ‘‘۔ہم میں سے ایک مجموعہ محاصرے کو توڑنے کے لیے آگے گیا اور ابھی پندرہ منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ اللہ کی مدد آگئی ، حاجی قدیر کے بندے بھائیوں سے معافی مانگنے لگے ، او رپھر آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ اللہ رب العالمین نے ہمیں سستانے اور آرام کرنے کے لیے انتہائی اچھی جگہ دی ، یہاں درخت تھے ،پانی تھا اور تیارمکان بھی تھا ۔ یہ ایسی جگہ تھی کہ اگر ہم خود سے اس کو تلاش کرتے تو کبھی نہ ملتی بس اللہ نے اپنے کرم سے یہ ہمیں دی۔ ہم نے یہاں کھایا پیا اور غسل کیا ۔ زخمیوں کے لیے اللہ نے دوا اور مرہم پٹی بھی دی۔ ایسے میں یہ خوشخبری بھی ملی کہ اُس بہن کے ہاں ولادت ہوگئی، الحمد للہ، اللہ انہیں بیٹا دیا اورانہوں نے بچے کا نام اس کے شہید باپ کے نام پر رکھ دیا۔ جب آرام کرچکے اور پریشانی نہیں رہی توپتہ چلا کہ قندوز والی خبر صحیح نہیں تھی۔ اس پر ہمیں یہی سمجھ آیا کہ یہ خبر اللہ کی تقدیر سے ہم نے سنی اور حقیقت میں یہ اُس عزیز و حکیم رب کی طرف سے ایک رحمت تھی۔

پس شام میں موجود اے ہمارے بھائیو!

خوش رہیے اور اپنے رب سے اچھا اور خیر کا گمان کیجیے۔ وہ رب جس نے ’’مالنا غيرك يا الله‘‘، ’’ اے اللہ! ہماراتیرے سوا کوئی نہیں‘‘کہنے کی توفیق و ہدایت آپ کو دی ہے، وہ آپ کو نہ کبھی اکیلا چھوڑے گا اورنہ ہی آپ کا اجر ضائع کرے گا۔اللہ کی نصرت آپ کے فرزند ان ِ مجاہدین کی نصرت میں ہے ، یہی مجاہدین آپ کے بیٹےو محافظ ہیں۔ اللہ کے بعد یہی مجاہدین آپ کی حفاظت اور ساتھ دینے والے ہیں ۔ پس ان کی مدد کیجیے، انہیں پناہ دیجیے اور ان کے لیے اپنے دل کھول دیجیے۔ ان کے خلاف کسی منافق اور مرجف (پھسلانے، گرانے والے) کی بات پر یقین مت کیجیے، اُس اللہ پر توکل کیجیےجو ہمیشہ زندہ ہے اور جس کو کبھی موت نہیں آئے گی۔

یہ مجاہدین اس فرض کو ادا کر رہے ہیں جو ہم سب کی ذمہ داری ہے، ہم سب پر فرض ہے ۔یہ جہاد فی سبیل اللہ کا فرض ہے ۔یہ یہود و نصاری اور عرب و عجم میں ان کے معاون طواغیت کے خلاف دفاع کا فرض ہے ۔ پس ہم پر ان مجاہدین کی مدد و نصرت فرض ہے، ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی تائید کریں ، ان کےحق میں اللہ سے دعائیں مانگیں ، ان کی کوتاہیوں سے درگزر کریں اور انہیں نصیحت کریں اور ہر لحاظ سے ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں۔

یہاں ہم شام کی محبوب سرزمین میں مصروف اپنے بھائیوں کے لیے تین پیغامات عرض کریں گے۔ اور ان پیغامات کا مقصد بھی یہ ہے کہ واللہ! ہم آپ کی پریشانیاں کم کرنا چاہتے ہیں، یہ پریشانیاں اگر کم نہ کرسکے تو کم از کم آپ کے ساتھ ان میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہماری یہ باتیں آپ کے غموں کو ہلکا کرنے والی ثابت ہوں اور یہ باتیں آپ کے لیے مفید ہوں ، نہ کہ آپ کے لیے نقصان کا باعث ہوں۔

 

مجاہد سپاہی کے نام پیغام!

ہمارا پہلا پیغام مجاہد بھائی کے لیے ہے اور یقیناً اسلام میں مجاہد سپاہی کا مرتبہ انتہائی عظیم ہے ۔

اے مجاہدبھائی! سب سے اہم ترین معاملہ نیت کا ہے۔ اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص کرلو۔ حالات و واقعات کبھی تمہاری نیت خراب نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارا قتال کسی جماعت یا کسی فرد کی خاطر ہوجائے۔ نہیں! اپنا قتال صرف اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے خالص رکھو۔ اے شیرو! معروف میں اپنے امراء کی سمع و طاعت کرو، چاہے ان کے اوامر تمہیں اچھے لگیں یا برے۔ اگر آپ کو امیر کا حکم پسند نہیں تو یہ قطعاً ضروری نہیں ہے کہ آپ کی رائے آپ کے امیر کی رائے کے موافق ہوتبھی آپ عمل کریں۔نہیں! ایسا بالکل نہیں ہے۔ امیر کا حکم دائرۂ شریعت کے اندر ہو تومامور کو چاہے یہ پسند نہ بھی ہو ،اس پر اس کی تعمیل واجب ہے ۔ میرے بھائی! ایسا نہ ہو کہ آپ ان ’ مامورین ‘ کی طرح بن جائیں جو اپنے امیر کو زبانِ قال سے نہیں تو زبانِ حال سےپیغام دیتے ہیں کہ اگر تم نے ہمارا امیر ہونا ہے تو تمہیں ہماری (ہی) سمع و طاعت کرنی ہوگی۔ ایسا نہ ہو کہ امیر کے جو اوامر تمہیں اچھے نہ لگیں ان کی تعمیل میں تم سستی دکھاؤ یا ان پر عمل سے جی چراؤ، ایسا ہوا تو واللہ یہ ایک قاتل مرض ہے۔ اے میرے مجاہد بھائی! ایسا نہ ہو کہ تمہارے امیر نے اگر تمہیں کوئی کام کہنا ہو تو وہ اس سے پہلے تمہارے سامنے ایک طویل مقدمہ پیش کرنے پر مجبور ہو۔ وہ مجبور ہو کہ تمہیں اس کے اسباب وحِکم ( حکمتیں ) سمجھائے،ورنہ تم اس پر عمل نہیں کرو گے۔ ایسا اگر ہوتو واللہ یہ بہت بڑی حق ناشناسی اور واضح ظلم ہے۔ یاد رکھیے! بعض اوقات امیر آپ کو ساری تفاصیل نہ بتانے پر مجبور ہوتا ہے۔ بعض امور صرف خاص لوگوں کو بتانے والے ہوتےہیں اور بعض تو خواص کے بیچ بھی خاص الخاص کو ہی بتائے جاسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کا امیر بعض اوقات ایسے فیصلے کرے جو آپ کے نزدیک مرجوح (جائز، مگر غیراولیٰ) ہو ں۔ آپ کے نزدیک کوئی اور فیصلہ اولیٰ ہوگا، مگر امیر کی مجبوری ہوتی ہے، وہ آپ کو بتا نہیں سکتا کہ کیوں اس نے غیر اولیٰ پر عمل کیا۔ اگر وہ اس سبب کا اظہار کرے تو نقصان ہوسکتا ہے۔ لہٰذا آپ بس احکامات کی پیروی کریں ، چاہے آپ کو حکمت نہ بھی پتہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد کیجیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ فرمایا: ’’ اے معاذ! تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟‘‘ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’اللہ اور اس کا رسول ہی جانتاہے‘‘، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے اللہ کی عبادت کریں اور اس عبادت میں کسی اور کو شریک نہ کریں، اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، اللہ اُس کو عذاب نہیں دیں گے‘‘، معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ’’ کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دوں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ نہیں! لوگ عمل سے رک جائیں گے‘‘۔ تو ہر علم دوسروں کو بتانا ضروری نہیں اور نہ ہی ہر اس کام کا کرنا لازم ہوتا ہے جو حکم کے لحاظ سےجائز ہو (کتنے ہی ایسے کام ہیں جو فی الاصل تو جائز ہوتے ہیں مگر ان کے کرنے سے ایسے مفاسد پیدا ہوسکتے ہیں کہ جن کے سبب ان کا کرنا ناجائز ٹھہرتا ہے )۔

 اے میرے محترم! جان لوکہ آپ کا امیر سب کا امیر ہے اور سب اسی پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس کے کندھوں پر سب کابوجھ ہے۔ وہ سب کے بارے میں سوچتا ہے۔ لہٰذا اپنے امیرکی مدد کرو اور بچو اس سے کہ تمہارا امیر اس حالت کو پہنچ جائے کہ وہ ہر قدم اٹھانے اور ہر فیصلہ کرنے سے پہلے دس دفعہ سوچے کہ اس کا فلاں ساتھی کے دل پر کیا اثر ہوگا یا اس سے فلاں کے دین واخلاق متاثر تو نہیں ہوں گے……یا فلاں اس فیصلے کوقبول کرے گایا نہیں! اپنی حسّاسیتیں اور اپنی نازک مزاجیاں اپنے قدموں تلے روند ڈالو! امیر کا حکم اور اس کا قول تمہارے لیے سرکا تاج ہو۔ یاد رکھیے! ( جماعت و جہاد میں ) امیر سر ہے اور تم جسم ہو (یعنی جسم سر کے بغیر نہیں اور سر جسم کے بغیر نہیں اور سر کا اپنا کام ہے اور باقی جسم کا اپنا)۔ تمہیں امیر کے اختیار اور رضا کو قبول کرنا چاہیے۔ امیر سےزیادہ (بوجھ اٹھانے والا) جماعت میں کون ہے؟ وہی ہے جو قاضیوں اورعلما کو دیکھتا ہے اور وہی ہے جس کی طرف عسکری و امنیتی (سکیورٹی )امور کے لیے رجوع کیا جاتا ہے۔ تمام امور کا دروازہ بھی وہ ہے اور امور چلانے والابھی وہ۔ وہ آپ کے لیے بمنزلہ والد ہے، وہ یتیم کا کفیل بھی ہے اور سب کا غمگسار بھی۔ بچو اس سے کہ تم اُ ن بدنصیبوں کی طرح بن جاؤ جن کاکام ہی یہ ہے کہ وہ افراد اور جماعتوں میں خامیاں ڈھونڈتے ہیں اور ان پر طعن کرتے ہیں ۔ ایسے افراد کو نصیحت کرو ، اگر نصیحت قبول نہیں کرتے ہوں تو یہ جسم کا متعدی مرض ہے ، ان سے دورہوجاؤ۔

طعن اور چغل خوری کرنے والوں سے اپنے آپ کو دور رکھو اور انہیں اللہ کا یہ فرمان یاد دلاؤ: ﴿وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ﴾[13]۔ اور اُن امور کے پیچھے مت پڑو جن کا بوجھ تمہارے سر نہیں۔ امراء کے اپنے کام ہیں اور تمہارے اپنے کام۔ اللہ کا شکر کرو کہ اللہ نے تمہیں اُس بوجھ سے محفوظ رکھا ہے جو امراء کے کندھو ں پر ہے۔ ان (چغل خوروں) کی طرف متوجہ مت ہو، ان کے لیے صرف خیر خواہی ، تذکیر اور اصلاح کا جذبہ تم میں ہونا چاہیے۔ اے میرے مجاہد سپاہی بھائی! اگر تم دیکھتے ہو کہ تمہارے امراء عام مسلمانوں کی مصلحت و فائدے کی خاطر اپنا اور آپ کا حق چھوڑ رہے ہوں تو ان کی مدد کرو اور ان کے دست وبازو بن جاؤ اور ان کی مساعی میں باعث ِبرکت بن جاؤ! اگر اس کے برعکس آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے امراء دوسری جہادی جماعتوں کے ساتھ الجھتے ہیں، ان کے ساتھ حسد کرتے ہیں ، چھوٹے چھوٹے معاملات میں ان کا محاسبہ کرتے ہیں تو انہیں نصیحت کرو اور اس رویے کے عواقب سے انہیں ڈراؤ ۔ اگر وہ نہ مانیں تو تم اپنی حالت پر رؤو اور اس کے بعد کوشش کرو کہ تم اپنے امراء سے اچھے ثابت ہو۔

اے مجاہد بھائی! یاد رکھو، تم کسی خاص جماعت کا تیر نہیں ہو ، بلکہ تم اسلام کے تیروں میں سے ایک تیر ہو، (یعنی جماعت کی خاطر، جماعت کے لیے، مت لڑو! لازم ہے کہ تم صرف دشمنانِ اسلام کے خلاف استعمال ہو ( اپنی زبان اور اسلحہ کبھی کسی دوسری جماعت کے خلاف استعمال نہ کرو)۔ دشمن ہی کی ٹوہ میں رہو اور اسی کے خلاف لڑو، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آجائے اور تمہیں فوزِ عظیم مل جائے۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:﴿قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَنْ يُصِيبَكُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا فَتَرَبَّصُوا إِنَّا مَعَكُمْ مُتَرَبِّصُونَ ﴾[14]۔


جہادی جماعتوں کے محترم امراء کے نام پیغام :

میرا دوسرا پیغام جہادی جماعتوں کے امراء کے نام ہے۔ یہ پیغام ہر  جماعت میں موجود تمام مسئولین (مرکزی امراء کے علاوہ)کے لیے بھی ہے۔ یہ باتیں آپ کے ایک ایسے بھائی کی طرف سے ہیں جو خود بھی آپ کی طرح اسی امتحان سے گزر رہاہے، جس سے آپ گزر رہے ہیں[15] ۔ میری خواہش ہے کہ میں ان جملوں کے ذریعے آپ کا بوجھ ہلکاکروں اور آپ کی مدد کروں، اللہ سے امید ہے کہ اس کے بدلے وہ میرا بوجھ ہلکا کر دیں گے اور میری مدد کریں گے۔ ان باتوں کے لیے میں نے استشارہ اور استخارہ کیا اور پھر اللہ پر تو کل کیا۔ ان سے میرا مقصد اصلاح ہے اور خیر وصلاح کی توفیق اللہ کی طرف سے ہے۔ اسی اللہ پر میں توکل کرتاہوں اور اسی کی طرف میں نے لوٹنا ہے۔

اے میرے محبوب بھائیو!

اللہ آپ کو اپنے اس رستے پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔ اللہ کرے کہ تمہارے قدم صحیح سمت اٹھیں، اللہ ہمیں اور آپ کو ہدایت سے نوازےاور ہمارے تمام امور کی اصلاح فرمائے۔ حملہ آور دشمن کے مقابل اتفاق و اتحاد کی ان کوششوں پر ہم دل سے شکرگزار ہیں۔ دشمن کے مقابل ایک صف بن کر لڑنا انتہائی ضروری ہے، یہ افتراق و اختلاف ہمارے دین اور دنیا دونوں کو تباہ کررہا ہے۔ آپ کی وحدتِ صفوف کی یہ کوششیں آپ کے علم و فہم پر دلالت کرتی ہیں۔ آج آپ ایمان کے بعد سب سے اہم فرض کو ادا کررہے ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے :’’ایمان کے بعد سب سے اہم فرض دین اور دنیا کوخراب کرنے والے دشمن سے دفاع ہے‘‘۔ اللہ آپ کی مدد ونصرت کرے اور آپ کو اپنے دشمنوں کے مقابل قتال میں بالکل ایک صف بنا کر کھڑا کردے کہ یہی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو محبوب ہے، ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾[16]۔ ہلاکت ہے ان کے لیے جو اللہ کے بندوں کوایک صف بننے سے منع کرتے ہیں۔ جو اتفاق و اتحاد کو پسند نہیں کرتے ہیں اور کسی وجہ سے ان کا دل اس طرف مائل نہیں ہے۔ میں انہیں کہتاہوں کہ اگر آپ کی دعوت اور آپ کا جہاد آپ کو متحد نہیں کرسکا ، تو کم ازکم اب یہ غم اور یہ مصائب ہی آپ کو متحد کرلیں، ظاہر ہے کہ مصائب وحوادث لوگوں کو قریب کرتے ہیں۔ دفاعی جہاد کا دروازہ بہت وسیع ہے، اس کو خود پر اور اپنے بھائیوں پر تنگ نہ کریں۔ اگر آپ اپنے بھائی کے اندر کوئی کوتاہی اور خامی دیکھتے ہیں تو اس کے ساتھ قریب ہونے میں ہی اس کی اصلاح اور تذکیر ہے کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ امیدہے کہ اللہ آپ کی قربت کے ذریعے اس کی اصلاح فرمائیں گے اور آپ کی یہ قربت ہی اس کی تقویت اور اصلاح کا سبب بنے گی، ان شاء اللہ۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:﴿هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ﴾[17]، پس مؤمن اپنے بھائی کا مددگار ہوتاہے،بر حق امور میں اس کی تائید کرتاہے اور اسے قوت فراہم کرتاہے۔ بچو اس سے کہ تم اپنے بھائی کی مدد سے ہاتھ کھینچو اور وہ تمہارے علاوہ کسی اور کو ڈھونڈنا شروع کردے۔ پس تم ہی ایک دوسرے کے خیر خواہ بنو، ا یک دوسرے کی مدد کرو اور ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا‘‘، ’’مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت (کی اینٹوں) کی مانند ہے، جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں‘‘، یہ فرماکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ کر ایک دوسرے میں ڈال دیا۔ کوئی آپ سے دور ہونے لگے توآپ اس کے قریب ہوں، اسے نصیحت و تذکیر کریں، یہ آپ کے اوپر واجب ہے کہ آپ ایسے فرد کے ساتھ رحمت و شفقت کا معاملہ کریں۔

اے میرے محبوب بھائیو! اگر آپ کے بیچ مسائل ہوں تو ضروری ہے کہ آپ میں سے ہر ایک اپنے آپ کو موردِ الزام ٹھہرائے اور دوسروں کے سر الزام نہ ڈالے۔ اگر تو ہر ایک نے اپنے آپ کو الزام دیا ، ہر ایک نے اعتراف کیا کہ غلطی اس سے ہی ہوئی ہے تو واللہ خیر و برکت آئے گی اور سارے معاملات صحیح ہوجائیں گے۔ ہمیں ایک دوسرے کے مقابل عاجزی اور تواضع اختیار کرنی چاہیے کہ مؤمنین کی صفت ہی مؤمنین کے لیے نرم اور کفار کے لیے سخت ہونا ہے۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے؛ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾[18]۔ اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا فرمان ہے؛ ﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾[19]۔

اے میرے محبوب بھائیو!

 یاد رکھیے کہ دینی اخوت اور تعلق، جماعتی تعلق سے کہیں زیادہ عظیم اور اہم تر ہے۔ دینی تعلق ہمارے رب کا قائم کردہ ہے۔ اگر جماعتی تعلق، اس دینی تعلق کو مضبوط کرنے والا نہ ہو تو یہ مفید کی جگہ مضر ہے اور یہ ظالم گروہی تفریق میں تبدیل ہوجاتا ہے (جو دین کے لیے انتہائی خطرناک ہے)۔ اے میرے بھائیو! اُن افراد سے محتاط رہو جو تمہارے بیچ فتنہ وفساد کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ اس قسم کے افراد ہر جماعت میں ہوتے ہیں اور یہ حقیقت میں جماعت کا گند اور کچرا ہوتا ہے۔ ایسے افراد پر نظر رکھو، اور ہر جماعت کو چاہیے کہ اپنے آپ کو ایسے گند سے پاک و صاف کرے۔ یاد رکھیے! جس نے ہماری صفوں میں محبت واخوت پیدا کرنے کی کوشش کی، وہ ہمارا بھا ئی ہے، مگر جس نے ہمارے بیچ اختلاف و افتراق کو ہوا دی، وہ ہمارے نہیں بلکہ دشمن کے کام آتا ہے اور حقیقت میں وہ ہمارے بیچ دشمن کا پھندا اور جال ہے۔

اپنے عہد وپیمان اور معاہدوں کی پاسداری کرو اور حالات و واقعات یا داخلی دباؤ تمہیں وعدوں اور معاہدوں کو توڑنے پر مجبور نہ کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِھِمْ إِلَّا شَرْطًا أَحَلَّ حَرَامًا، أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا‘‘، ’’مسلمان اپنی شروط (وعدے ) پورا کرتے ہیں، الا یہ کہ وہ وعدہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرتا ہو‘‘۔ اور یاد رکھو میرے بھائیو! کہ آپس میں عفو و درگزر کی تلقین کرنا خیر کی دعوت ہے، پس اس خیر سے کبھی اپنے آپ کو محروم نہ کرو۔ ایک واقعہ یا واقعات کی بنیاد پر دوسری جماعت کے محاسبہ اور اس سے سزا کا مطالبہ کرنا انتشار اور وقت کے ضیاع کا سبب ہے۔ ہم ہر حق دار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر تمہارا بھائی تمہیں معروف طریقے سے حق نہ لوٹائے تو کم از کم اپنا جہاد اور سعی داؤ پر نہ لگاؤ۔جس نے اللہ کی خاطر اپنی کوئی چیز چھوڑ دی اللہ اس کو اس سے بہتر عطا کر دے گا۔

میرے بھائیو! جو افراد آپ کی راز کی باتوں کو سوشل میڈیا پر پھیلاتے ہیں، ان سے محتاط رہیں۔ ایسے افراد کو اپنے امور سے بالکل بے خبر رکھنا ضروری ہے۔ ایسے فرد کے لیے کم سے کم سزا یہ ہے کہ اس کے لیے فون پر مکمل طورپر پابندی ہو، اس کی باز پرس ہو اور ا سے سزا دی جائے۔ضروری ہے کہ ایسے افراد پر امراء سے پہلے مامورین نظر رکھیں اور ا نہیں منع کریں۔ اگر ان کے ساتھ نہیں نمٹیں گے تو ان کی وجہ سے (مزید) پاکیزہ خون بہے گا۔ ایسے افراد کو منع کریں جو آپ کے داخلی امور اور معاملات کو انٹرنیٹ پرموضوعِ بحث بناتے ہیں اوران پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ ان ویب سائٹوں پر دشمن نظر رکھتےہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ نیٹ کے ان صفحات پر شیطان بنفس خبیث خود بڑے عالم دین کی صورت میں حاضر ہوتا ہے ۔

 لوگوں کے ساتھ ان کے ظاہر کے مطابق معاملہ کرو اور حسنِ ظن کا دامن تمہارے ہاتھ سے نہ چُھوٹے۔ اگر کوئی کسی سبب مایوس ہوتا محسوس ہوتا ہے، جہاد میں وہ کمزور پڑ رہا ہے اور گر رہا ہے تو اس کو تھام لو اور اس کے متعلق اچھا گمان کرو، اس کے ساتھ اس کے ظاہر کے مطابق ہی معاملہ کرو، الا یہ کہ وہ دوسروں کو گرانے اور فساد پھیلانے والا ثابت نہ ہوجائے۔ اگر کوئی دوسروں کے حوصلوں کو بھی پست کررہاہو، انہیں مایوس کررہاہو، گرا رہاہو اور فساد پھیلا رہاہو… …تو یاد رکھیے، وہ مرجف ہے اور ایسےمرجفین کے بارے اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا؀مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا ؀سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا﴾[20]۔ لہٰذا لوگوں کے ساتھ ان کے ظاہر کے مطابق تعامل ضروری ہے اوراس کے لیے حسنِ ظن بھی لازم ہے۔ ایسے میں اگر واضح ہوجاتا ہے کہ ایک فرد مجاہدین میں نفرت کے بیج بو رہا ہے تو پھر ایسے شخص کا شرعی حکم دیکھیے (یعنی اس کے ساتھ دائرۂ شریعت میں رہتے ہوئے سختی سے نمٹا جائے)۔ ایسے فرد کے بارے میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ یہ کسی اچھے کام کے لیے مناسب نہیں، نہیں! واجب ہے کہ اس شخص کو اللہ سے ڈرایا جائے، پھر بھی باز نہیں آتا تو پھر اس کو سزا دی جائے۔ یاد رکھیے! جو مجاہدین میں مایوسی پھیلا رہا ہے، انہیں گرا رہا ہے یا ان میں نفرت کے بیج بو رہا ہے، وہ دشمن کا مدد گار ہے اور ایسے فرد کو صحیح طریقے سے اللہ یاد دلائیے، ورنہ کم سے کم سزا اس کی یہ ہے کہ اسے اپنی صفوں سے نکال باہر کیا جائے۔

 میرے بھائیو! حقیقت یہ ہے کہ منافقین آپ کے سامنے ہمیشہ لباسِ شرعی ہی میں آئیں گے۔ وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ محبت کا ڈھونگ رچائیں گے اور اسکے ذریعے آپ کو گرائیں گے۔ یہ آپ کے سامنے مگر مچھ کے آنسو بہا کر اپنے آپ کو آپ کا بڑا خیر خواہ دکھائیں گے، تاکہ آپ کےدل میں آپ کے بھائیوں کے خلاف نفرت ڈال سکیں۔ اے میرے نیک بھائیو! کتنے نیک ایسے ہیں جو دشمن تک کی صف میں جاکھڑے ہوئے جبکہ انہیں اس کا احساس نہیں تھا۔ صنعاء کی جیل میں میرے ساتھ ایک قیدی بھائی تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ میں ساتھیوں کے بیچ افتراق و اختلاف کا سبب تھا، ان کے بیچ نفرت ڈالتا تھا، اب جبکہ میں جیل میں ہوں تو مجھ پر واضح ہوگیا ہے کہ میں درحقیقت سعودی استخبارات (انٹیلی جنس)کے منصوبے پر عمل درآمد کررہاتھا، جبکہ مجھے اس کا علم ہی نہیں تھا۔

آخری نکتہ یہ، کہ اے میرے محبوب بھائیو! علماء کی قدر کریں ، علماء کی قدر کریں۔یہ علمائے کرام چراغ ہیں، یہ ظلمات واندھیروں کے بیچ نور ہیں۔ انہیں ان کا مرتبہ دیں، اللہ آپ کو مرتبہ دیں گے، ان کی قدر کریں، اللہ آپ کی قدر کریں گے، ان سے محبت کیجیے، اللہ آپ سے محبت کریں گے۔ اپنی زبانوں کو ان کے خلاف استعمال ہونے سے روک دیں، بلکہ ہوسکے تو زبانوں کوان کے خلاف استعمال سے کاٹ دیں۔ اگر ان علماء میں سے کوئی آپ پر نقد کرتا ہے تو جان لیں کہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے، ان کا شکریہ ادا کریں اور ان کی نصیحت پر عمل کریں۔ اگر وہ آپ کے بارے میں غلط موقف بھی رکھتے ہوں تو ناراض نہ ہوں اور ان کے سامنے ایسے ادب و احترام سے اپنا موقف پیش کریں جیسا کہ بیٹا اپنے والد کے سامنے اپنا موقف رکھتاہے، بلکہ ضروری ہے کہ ایسے موقعوں پرتو ان کے ساتھ اس سے بھی زیادہ ادب کے ساتھ آپ پیش آئیں۔ ان کے ساتھ مشورہ کیا کریں اوران کی نصیحت قبول کیاکریں ، صرف خاص اپنے علماء کی نصیحت نہیں، بلکہ تمام علمائے صادقین کا ہمارے اوپر حق ہے اور ان پر ہمارا حق ہے، لہٰذ ا وہ اگر ہمیں نوازل (یعنی نئے پیش آنے والے امور) میں رہنمائی دیں تو ہمیں کھلے دل سے قبول کرنی چاہیے۔ اگر یہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں، تو یہ علمائے کرام ہیں، یہ باوجود اختلاف کے ایک دوسرے کا حق جانتے ہیں۔ ہمیں ان کے ساتھ اپنے چچاؤں یا ماموؤں کی طرح برتاؤ کرنا چاہیے کہ اگر وہ آپس میں اختلاف کرتے ہوں تو ہم ان سب کا احترام کرتے رہیں اور ان پر یہ ظاہر ہی نہ کریں کہ ان کے بیچ مسائل کا ہمیں بھی علم ہے۔ اپنے چچاؤں اور ماموؤں کے بیچ اصلاح اور اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرنے والا عقلمند ہے، لیکن جو ان کے بیچ اختلاف کو ہوا دیتا ہے وہ پرلے درجہ کا بدنصیب اور بےوقوف ہے۔

میدانِ جہاد کے علمائے کرام ومشائخ ِ عظام کے نام پیغام:

(اشعا ر کا نثری ترجمہ)

 

تم سے محبت کرنے والا تم پر اللہ کی سلامتی بھیجتا ہے
یہ دیکھتاہے کہ تم مدح وتعریف کے اہل ہو
کسی قوم کی تعریف کرنا ایک مشکل امر ہے
مگر آپ کی تعریف کرنا اگر چاہے، تو یہ آسان ہے
آپ کا دین تقویٰ ہے اور آپ کا راستہ ہدایت ہے
آپ کا کلام نصیحت ہےجبکہ آپ کی قربت دولت ہے

 

اے میرے محبوب بھائیو!

 آپ جانتے ہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ عظیم فریضہ ہے اور اس کے ثمرات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اس کا اول، آخر کو مکمل کرتا ہے اور ایک سے دوسرا استفادہ کرتا ہے۔ اس کے سب حلقے زنجیر کی مانند جڑے ہیں اور یقیناً انجامِ کار اللہ نے متقین کے حق میں رکھاہے۔ اہلِ جہاد پر مختلف مراحل آتے ہیں، کبھی وہ قوی ہوتے ہیں اور کبھی وہ ضعف کا شکار ہوتے ہیں، ہر حالت میں اللہ کی اپنی حکمت ہے۔ ضعف کی حالت کے احکام اپنے ہیں اور قوت و تمکین اپنے احکام رکھتی ہے۔ اللہ رب العزت اپنے بندوں کو ہرزمان و مکان میں (اس ضعف و تمکین کے اندر) اپنی شریعتِ مطہرہ سے چلاتا ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی اور رحمت ہے کہ سب کچھ اس عظیم ذاتِ قدیر کی مقرر کردہ قدر اور اس علیم رب کے علم کے مطابق ہوتا ہے، بیشک وہ اللہ حکمت والا اور خبیر ہے۔

جان لیجیے! اللہ آپ پر رحم فرمائے، کہ دشمن کے مقابل، تمام مجاہدین اور مسلمانوں کو ایک صف بنا کر کھڑا کرنا سب سے اہم امر ہے۔ مؤمنین کے سامنے اپنے کندھے جھکانے کا ارحم الراحمین رب نے حکم دیا ہے۔ پس آپ مسائل میں سخت سے سخت قول کی تلاش مت کیجیے کہ اس سے آپ اپنے بھائیوں کو بعض خیر سے محروم کردیں گے اوران کے لیے (شریعت میں) موجود وسعت کو تنگی میں تبدیل کردیں گے۔ یاد رکھیے! کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو راستوں میں سے کسی ایک کے چناؤ کا اختیار ہوتاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسان تر کا انتخاب کرتے، بشرطیکہ وہ آسان تر، گناہ یا قطع رحمی کا معاملہ نہ ہوتا۔ اپنے آپ پر یا اپنی رعیت پر ایسا بوجھ کبھی نہ ڈالیے جو اٹھا نہ سکیں۔ جب بھی آپ اپنے لیے ایسی وسعت پائیں جس کی صحت پر شریعت دلالت کرتی ہو، تو اس کی طرف لپکیں اور حجتوں کی بنیاد پر اس سے مت ڈریں۔ لیکن اگر وہ امر واضح طورپر منع ہو یا اس کا مفسدہ عیاں ہو تو پھر اس سے بہرحال دور رہیے۔ میرے محبوب بھائیو! یقیناً آپ پے درپے حادثات سے گزر رہے ہیں۔ ابھی ایک معاملے کا فیصلہ آپ نے کیا نہیں ہوتا ہے کہ دوسرا سر پر آجاتا ہے۔ ابھی ایک امر پورا نہیں ہوا ہوتا کہ حالت تبدیل ہوجاتی ہے اور نئے سرے سے پھر معاملہ شروع کرنا پڑتا ہے۔ آپ ایک مسلسل تغیر پذیر کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ آپ کا ایک دوسرے کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ ہو۔ اگر کوئی (عالم) اجتہاد سے کسی خاص نکتہ پر پہنچ گیا ہے تو اس کو برا مت کہیے اوراُس پر سختی مت کیجیے۔ اللہ ہمارے لیے آسانی پسند کرتے ہیں اور وہ ذاتِ قدیر ہمارے لیے کبھی نہیں چاہتی کہ ہم سختی و تنگی میں مبتلا ہوں۔

میرے محبوب بزرگو! آپ جانتے ہیں کہ جب مشقت اور تنگی آتی ہے تو وہ اپنے ساتھ آسانی لاتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اضطراری کیفیت کے احکامات اختیاری حالت والے نہیں ہوتے ہیں۔ محترم و محبوب بزرگو! شرعی مسائل میں اختلاف و مجادلہ سے بچیے۔ اگر آپ سب بغیر کسی افتراق کے کسی مرجوح (غیر اولیٰ) حکم پر عمل کرتے ہوں اور ایسے میں آپ کے ہاں اتحاد و محبت ہو، تو یہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ آپ کسی راجح اور اولیٰ حکم پر تو عمل کریں مگر اس کے سبب دلوں میں نفرت بھری ہوئی ہو۔ آپ کو یاد ہوگا کہ مسلمانوں پر تب کیا گزری تھی جب دشمن ان کے گھروں کے دروازوں پر کھڑا تھا، جبکہ وہ طہارت کے بعض احکام میں بحث ومباحثے میں مشغول تھے۔ طہارت کے احکام بھی دین کا حصہ ہیں، مگر کیا اس کا یہ وقت تھا؟ حملہ آور دشمن کو پیچھے دھکیلنا ظاہر ہے وقت کا اہم ترین فرض تھا۔ اس فرض کو چھوڑ کر غیر فرض میں مشغول ہونا اہم فرض کے فوت ہونے کا سبب ہوتا ہے۔ عز بن عبدالسلام رحمہ اللہ اور دیگر علما نے فرمایا ہے کہ ’’کوئی ایسے علاقے میں جائے جہاں خون بہایا جا رہا ہو، اور وہ اُدھرجاکر بھی نماز و صیام کے مسائل میں (غیر ضروری) بحث مباحثہ اگر کرے تو وہ خائن ہے‘‘۔ آج ایسے سخت حالات میں کہ جہاں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے، اگر کوئی اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف فتاوی ٰ صادر کر رہا ہو اور دیگر اختلافی موضوعات کو چھیڑ رہا ہو ، تو ہمیں ڈر ہے کہ اس پر عز بن عبدالسلام کا قول صادق آجائے۔

شریعت کا دامن تنگ کرنے سے بچیے۔ بیشک حق وہ ہے جس کو شریعت حق ثابت کرے، یا کوئی جماعت دلیل ِ شرعی کی بنیاد پر جسے حق کہے۔ کسی امر میں اگر شریعت اختلاف کی اجازت دیتی ہے تو ہمیں اس میں اختلاف کے سبب ایک دوسرے سے دل خراب نہیں کرنے چاہیے ہیں۔ ہمیں دین یا قولِ فیصل کو صرف اپنے آپ یا اپنی جماعت میں کبھی محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ہوسکتاہے کہ کسی مسئلہ میں آپ کے علاوہ کسی کو صحیح نکتہ تک پہنچنے کی توفیق نہیں ہوئی ہو مگر اُس نے علم و اہلیت کے ساتھ حق تک پہنچنے کی سعی اگر کی ہے تو اس کو برا نہیں کہنا چاہیے۔ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ آپ کو خاص ایک مسئلہ میں صائب (صحیح) ہونے کی توفیق اللہ نے نہ دی ہو جبکہ آپ اس پر لوگوں سے راضی اور ناراض ہوتے ہوں ۔

اے میرے محبوب بھائیو! اگر کسی نے آپ کوکوئی خدمت سپرد کردی تو اس پر آپ اللہ کاشکر ادا کیجیے، ایسا نہ ہو کہ آپ بس اُس کام پرا صرار کریں جس میں آپ مصروف ہوں۔ وہاں رہیے جہاں میدان میں آپ کی ضرورت پڑے، نہ کہ یہ کہ آپ وہاں رہیں جہاں آپ کی خواہش ہو۔ یہاں ہم آپ کے سامنے یمن میں اگر اپنے تجربے کا کچھ ذکر کردیں تو امید ہے کہ آپ کے لیے نافع ہوگا۔ ہمیں اس تجربے نے الحمد للہ اچھے نتائج دیے ۔

جن علاقوں میں اللہ نے ہمیں سلطہ دیاہے ، وہاں ہم ایسے علما سے بھی اپنے (شرعی) فیصلے کراتے ہیں جو ہمیں خوارج سمجھتے ہیں۔ ہم ا پنے بارے میں ان کی اس رائے کے سبب ان کی عزت کرنا نہیں چھوڑتے اور نہ ہی ان کی اس رائے نے ہمیں،اپنے امورمیں ان سے شرعی فیصلہ کروانے سے روکاہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہمارے کسی ساتھی نے ان قاضیوں سے اپنے معاملات میں فیصلہ کروایا اور پھر جب اس ساتھی نے وہ قضیہ جماعت کے اپنے قاضی کے سامنے پیش کیا ،تو قاضی نے تفصیل سن کر اسے جواب دیا کہ ’اللہ کی قسم! اگر آپ میرے سامنے یہ قضیہ لاتے تو میں بھی یہی فیصلہ کرتا جو اُس (قاضی )نے دیا ہے‘۔ تو محترم بھائیو! اگر کوئی عالم آپ کی عدالتوں میں آپ کو تعاون فراہم کرتا ہے تو اللہ کی قسم یہ قابل رشک نعمت ہے، اس کو بصد شکر قبول کرنا چاہیے۔ ابین ، شبوۃ ، بیضاء، مکلاّ اور ساحل جیسی ولایتوں میں ہم (اپنی جماعت سے ہٹ کردیگر) دینی جماعتوں کے قاضیوں کے پاس بھی جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اُن جماعتوں کے قاضیوں کے پاس بھی جاتے ہیں جو ہمیں بدعتی کہتی ہیں۔ ہم انہیں کہتے ہیں کہ ہمیں آپ کے علمِ شرعی پر اعتماد ہے لہٰذا ہم تطبیقِ شریعت اور آپ کے بیچ کبھی حائل نہیں ہوں گے، (یعنی آپ ہمارے ساتھ اختلاف کے باوجود اگر شریعت کی تطبیق کرتے ہیں تو ہم مخالف نہیں ، بلکہ معاون ہوں گے)۔ ہم انہیں کہتے ہیں کہ یہ مراکز ہیں اور یہ عدالتیں ہیں ، جائیے اور اُس جو علمِ شرعی اللہ نے آپ کو دیا ہے ،اس کی بنیاد پر لوگوں میں فیصلے کیجیے ۔ہم انہیں اچھی سہولیات فراہم کرتے ہیں، ا ن کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور انہیں عزت دیتے ہیں۔ بلکہ جتنی ہم اپنے قاضیوں کو سہولیات دیتے ہیں، ان سے کہیں زیادہ سہولیات ہم انہیں دیتے ہیں۔ واللہ! (اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) ہم نے ان سے نہ کبھی اپنے ساتھیوں کے متعلق کوئی شکایت سنی اور نہ ہی وہ ہمارے قاضیوں سے کبھی شکوہ کناں ہوئے۔ الحمد للہ ہمارا ان کے ساتھ اچھاتعلق ہے (باوجودیکہ وہ ہماری جماعت میں نہیں ہیں اور باوجود یہ بعض امور میں وہ ہم سے اختلاف رکھتے ہیں!) ، آج بھی ہم بعض معاملوں اور نوازل میں ان سے رہنمائی لیتے ہیں۔

اے میرے محبوب بھائیو!

اختلافی مسائل میں مت الجھئے کہ اس سے دل خراب ہوتے ہیں اور یہی امور آپ کو ایسے وقت میں بھی دفاعی جہاد سے دور کرتے ہیں جب دشمن آپ کے دروازوں پر کھڑا ہے۔ اگر کوئی اپنی رائے پر اصرار کرتا ہے تو اس کو یہ سوچ کر چھوڑیے کہ ہوسکتا ہے کہ اس کے ساتھ حق ہو۔ اختلاف شر ہے، اور اگرکہیں اختلاف کے بغیر چارہ نہ ہو، کوئی ایسا مسئلہ ہو جس پر اختلاف ضروری ہو تو اس اختلاف کا اظہار اور اس کا پھیلانا صحیح نہیں ہے۔ اگر یہ مشہور ہوگا تو اس میں جاننے اور نہ جاننے والے سبھی حصہ لیں گے اور ایسے لوگ بھی اس میں شرکت کریں گے جن کے ذاتی (غلط) مقاصد ہوں۔ یوں اس سے دشمن(و شیطان ) کو بھی موقع ملتا ہے اور وہ داخلی فساد کی آگ بھڑکاتا ہے ۔

اے میرے بھائیو!

 اللہ کے لیے، اللہ کے لیے انٹرنیٹ سے دور رہیے۔ وما أدراکم ما النت!! انٹرنیٹ کس قدر خطرناک ہے ، کاش ہم سب کو اس کاعلم ہوتا۔ اس نیٹ ہی کے راستے اور اسی کے سبب ہمارے کتنے بڑوں اور علماء پرکیچڑ اچھالی گئی، اس سےہمارے بھائیوں کو کتنا نقصان دیا گیا،اسی کے سبب کس قدر اچھے اچھے لوگ خراب ہوئے۔ اس نیٹ نے کتنے ہمارے راز کھول دیے اور اسی نے دشمن کو کتنا بڑا موقع دیا کہ وہ آئے اور ہمارے بیچ بیٹھ کر ہم میں فساد پھیلائے۔ واللہ! اس نیٹ کا نقصان بہت بہت اور بہت زیادہ ہے۔ اللہ ہی اُس سے راضی ہو اور اُس پر اپنی رحمتیں برسائے جس نے نیٹ کو چھوڑ ا اور حقیقت یہ ہے کہ جس نے اللہ کے لیے کسی چیز کو ترک کردیا، اللہ اسے اُس سے زیادہ بہتر چیز عطا کردیں گے ۔

آخر میں، اے شام کے میرے محبوب بھائیو! اللہ کے وعدوں، اس کے کرم اور فضل پر یقین رکھیے اوراللہ ہی سے امید رکھیے۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیے اور اس کے سوا کسی اور طرف بالکل مت دیکھیے۔ آپ کے اور اللہ کی نصرت کے بیچ بس صرف اللہ کا امر حائل ہے، جس کا وہ جب حکم کرے، اللہ کی نصرت نازل ہوگی، وہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

آپ اللہ کے سپرد ہیں۔ اس اللہ کی طرف آپ کو تفویض کرتا ہوں جو تفویض کردہ کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ یا اللہ! اپنے اہالیانِ شام کو ہم آپ کے سپرد کرتے ہیں۔ یا اللہ! آپ ان کی حفاظت اور ان کی مدد فرمائیے۔ اے اللہ! ہم ان کی جانیں، ان کے اہل، ان کے اموال اور ان کی اولاد آپ کے سپرد کرتے ہیں۔ ان کا دین، ان کی امانتیں اور اعمال کا خاتمہ ہم آپ کے سپرد کرتے ہیں۔ یا اللہ! ان کے مصائب کو جلد سے جلد ختم کردیجیے اور انہیں اپنی نصرت دکھائیے۔ یا اللہ! انہیں ہر غم اور ہر پریشانی سے نجات دیجیے، ان کی ہر تنگی کو وسعت میں تبدیل کر دیجیے اور ان کی ہرآزمائش کو عافیت میں بدل دیجیے۔ اے اللہ! ہم آپ ہی پر توکل کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف ہم نے لوٹنا ہے۔ اے ہمارے رب! ہمیں ظالم قوم کے لیے کبھی فتنے کا سبب نہ بنائیے، ہماری مدد فرمائیے یا ارحم الراحمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ وسلم و بارک علی نبینا محمد و علی آلہ وصحبہ وسلم۔

تَـمَّـــتْ بِالْخَـــیْر

و آخر دعوانا أن الحمدللہ ربّ العالمین

 [1] الروم:۴۷۔ ترجمہ: ’’اور اہل ایمان کی نصرت ہم پر لازم تھی‘‘۔

[2] آل عمران: ۱۳۹۔ ترجمہ: ’’ اور پست ہمت نہ بنو اور نہ غم کھاؤ، اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو ‘‘۔

[3] محمد: ۳۵۔ ترجمہ: ’’ لہذا (اے مسلمانو) تم کمزور پڑ کر صلح کی دعوت نہ دو ۔ تم ہی سربلند رہو گے، اللہ تمہارے ساتھ ہے، اور وہ تمہارے اعمال کو ہرگز برباد نہیں کرے گا‘‘۔

[4] یوسف: ۱۱۰۔ ترجمہ: ’’ (پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا رہا) حتیٰ کہ جب رسول مایوس ہوگئے اور لوگوں کو (بھی) یقین ہوگیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے تو پیغمبروں کے پاس ہماری مدد آگئی۔ پھر ہم جسے چاہیں بچا لیتے ہیں۔ تاہم مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب نہیں ٹالا جاسکتا ‘‘۔

[5] النحل: ۴۰۔ ترجمہ: ’’ ہمارا قول تو کسی چیز کے بارے میں بس یہ ہوتا ہے جب ہم اس کا ارادہ کرتے ہیں کہ ہم فرماتے ہیں اسے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے ‘‘۔

[6] الاحزاب: ۱۰۔ ترجمہ: ’’ جب وہ اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے ، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آگئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے‘‘۔

[7] الاحزاب: ۱۲۔ ترجمہ: ’’ یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا، صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے‘‘۔

[8] الاحزاب: ۲۲۔ ترجمہ: ’’ اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، جب انہوں نے (دشمن کے) لشکروں کو دیکھا تھا تو انہوں نے یہ کہا تھا کہ : یہ وہی بات ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا۔ اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور تابع داری کے جذبے میں اور اضافہ کردیا تھا‘‘۔

[9] الشوری: ۱۹۔ ترجمہ: ’’ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے، اور وہی ہے جو قوت کا بھی مالک ہے، اقتدار کا بھی مالک ہے‘‘۔

[10] محمد:۴۔ ترجمہ: ’’ اور اگر اللہ چاہتا تو خود ان سے انتقام لے لیتا، لیکن (تمہیں یہ حکم اس لیے دیا ہے) تاکہ تمہارا ایک دوسرے کے ذریعے امتحان لے۔ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز اکارت نہیں کرے گا‘‘۔

[11] البقرۃ: ۲۱۴۔ ترجمہ: ’’ (مسلمانو) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھ بول اٹھے کہ “ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟” یا درکھو ! اللہ کی مدد نزدیک ہے‘‘۔

[12] ’’اور کلیجے منہ کو آگئے‘‘۔

[13] الھمزۃ: ۱۔ ترجمہ: ’’ بڑی خرابی ہے اس شخص کی جو پیٹھ پیچھے دوسروں پر عیب لگانے والا (اور) منہ پر طعنے دینے کا عادی ہو‘‘۔

[14]التوبہ: ۵۲۔ ترجمہ: ’’ کہہ دو کہ تم ہمارے لیے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ( آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے۔ اور ہمیں تمہارے بارے میں انتظار اس کا ہے کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سزا دے۔ بس اب انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں‘‘۔

[15] یعنی خود بھی مسئول ؍ ذمہ دار ہیں۔

[16] الصف:۴۔ ترجمہ: ’’ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح صف بنا کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں‘‘۔

[17] الانفال: ۶۲۔ ترجمہ: ’’ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے‘‘۔

[18] المائدۃ: ۶۴۔ ترجمہ: ’’ اے ایمان والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا، اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے‘‘۔

[19]الفتح: ۲۹۔ ترجمہ: ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں‘‘۔

[20] الاحزاب: ۶۰ تا ۶۲۔ ترجمہ: ’’ اگر وہ لوگ باز نہ آئے جو منافق ہیں جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو شہر میں شرانگیز افواہیں پھیلاتے ہیں تو ہم ضرور ایسا کریں گے کہ تم ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگے، پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکیں گے، البتہ تھوڑے دن، جن میں وہ پھٹکارے ہوئے ہوں گے۔ (پھر) جہاں کہیں ملیں گے، پکڑ لیے جائیں گے، اور انہیں ایک ایک کر کے قتل کردیا جائے گا۔ یہ اللہ کا وہ معمول ہے جس پر ان لوگوں کے معاملے میں بھی عمل ہوتا رہا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور تم اللہ کے معمول میں کوئی تبدیلی ہرگز نہیں پاؤ گے‘‘۔